ولادی سلاوریموں

پولینڈ کے شہرۂ آفاق ادیب ولادی سلاور یموں ٧ مئی ٨٦٨١ء کو ایڈم نامی قصبے کے نواح میں پیدا ہوئے ان کے ماں باپ کیتھولک عیسائی تھے۔ انھوں نے کسی کالج سے اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کی، تجرد کی زندگی گزاری اور کوئی خاص پیشہ بھی اختیار نہیں کیا۔ ان کے اندر ایک تخلیق کار پوشیدہ تھا جس نے انھیں کہیں چین نہ لینے دیا۔ وہ ایک عظیم رزمیہ نگار اور شاعر تھے۔ ان کا شاہکار ’’کسان‘‘ نامی رزمیہ ہے جو انگریزی میں چار جلدوں میں شائع ہوا۔ یہ ایک طویل ترین نظم ہے جو پولینڈ کے لاچار، بے مایہ اور بے بس کسانوں کی زندگی کا احاطہ کرتی ہے۔ اسی پر انھیں ادب کے نوبل انعام کا حقدار قرار دیا گیا۔ یہ انعام انھیں ١٩٢٤ء میں ملا۔ ریموں کی ابتدائی دور کی تخلیقات نیچرل ازم سے متاثر تھیں مگر بتدریج وہ رئیل ازم اور سمبل ازم کی طرف راغب ہو گئے۔ ریموں اپنے دل میں انسانیت کا درد رکھتے تھے۔ غریب کسانوں کے ساتھ ان کی دلی وابستگی اور ان کی کسمپرسی کی حقیقت پسندانہ انداز میں عکاسی ان کی تحریروں میں واضح نظر آتی ہے۔ ’’کسان‘‘ کے علاوہ ان کی اہم تصانیف میں ’’کامیڈین‘‘ اور ’’پرامزڈ لینڈ‘‘ شامل ہیں۔ انھوں نے افسانے اور کہانیاں بھی تخلیق کیں جن میں زیرنظر کہانی ’’مرگ‘‘ بہت مشہور ہے۔ اس کا موازنہ موضوع اور لب و لہجے کے اعتبار سے منشی پریم چند کے لازوال افسانے ’’کفن‘‘ سے کیا جا سکتا ہے ولادی ریموں نوبل انعام پانے کے بعد صرف دو برس زندہ رہے اور ١٩٢٦ء میں خالق حقیقی سے جا ملے مگر اپنی یادگار تحریروں کی بنا پر امر ہو گئے۔